![]() |
بدلتی ہوئی دنیا اور ہمارا نوجوان
اشاعت:ماہنامہ ندائے ملت (5فروری2009ع)
|
موضوعات
آمدو رفت
بلاگر حلقہ احباب
کچھ میرے بارے میں
- Rehman Mahmood Khan
- Lahore, Pakistan, Pakistan
- 0322-4282542 (Columnist/Feature Writer/Poet/Designer) Websites: http://www.zeeshannews.com/columns/rehman/columnist-list.htm http://www.newsurdu.net/article/category/abdul-rahman-khan/ http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=5441 http://alqamar.info/alqamarnews/authors/?authorID=123 http://alqamar.info/2011/?author=48
Rehman Khan. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Catch Line
تعلیم ، ٹیکنالوجی کی باتیں
فیورٹ پوسٹ
تلاش
موضوعات
Find Us On Facebook
لیبلز
Pages
مشہور تحاریر
-
https://mail-attachment.googleusercontent.com/attachment?ui=2&ik=8b890a2bcc&view=att&th=134efe71854fb786&attid=0.1&di...
-
3R ناخواندگی اور تحریر: رحمان محمود خان دنیا نت نئے چیلنج سے دوچار ہے اور پاکستان کے بھی حالات ایسے ہیں کہ مضبوط اور باوقار ملک کے لیے اچھ...
-
تین برائیاں،تین اچھائیاں تحریروتحقیق: رحمان محمود خان انسان اپنی تخلیق سے لے کر اب تک برائی اور بھلائی یا اچھائیوں کے درمیان جکڑا ہ...
-
دنیاکےمحنت کشوں ۔۔۔۔ جیتنےکےلیےساراجہاں پڑاہے تحریر: رحمان محمود خان "دنیا کے محنت کشوں! متحد ہو جاؤ کھونے کے لیے تمہارے پاس تمہا...
-
بدلتی ہوئی دنیا اور ہمارا نوجوان اشاعت:ماہنامہ ندائے ملت (5فروری2009 ع ) Email: peghaamnews@gmail.com
پیر، 9 فروری، 2009
BADALTI HOWI DUNYA AUR HAMARA NU JAWAN
ہفتہ، 24 جنوری، 2009
کیا تاریخ بُش کےکارنامےبھلادےگی؟ ۔۔۔۔ کالم
کیا تاریخ بُش کےکارنامےبھلادےگی؟
تحریر: رحمان محمود خان
قارئین!اس کالم کا عنوان ایک ایساسوال ہے جس کا جواب تو فی الحال کسی کے پاس نہیں ہے لیکن میرے نزدیک اس سوال کا درست جواب دینے کے لیےامریکہ کے نو منتخب صدر باراک حسین اوباما کو اَن تھک کوششیں اور محنت کرنا ہوگی،اگر باراک حسین اوباما ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے اپنے ہر فیصلے کو علاقائی مفاد اور عالمی تناظر میں پرکھیں گے اور پھر کوئی متفقہ فیصلہ کریں گے تو ایک دن تاریخ بش کے انسانیت سوز اورذلت آمیز کارناموں کو پسِ پشت ڈال دے گی۔
نوجوانوں اور بزرگوں اگر امریکہ کی دوستی کی وضاحت ایک مثال کے ذریعے دی جائے تو سمجھنے میں کافی آسانی ہو جائے گی۔امریکہ یا اس کے منتخب ہونے والے صدورکی ہم جیسے تیسری دنیا کے ممالک سے دوستی اور سلوک ایک سگریٹ کے ٹکڑے جیسا ہے ،پہلے جلایا ، بھڑکایا اور پھر پاؤں رکھ کر مَسل دیا۔جس طرح سگریٹ کوکچھ دیر تک سلگایا جاتا ہے اور پھر دھویں کے بھبھولے بنائے جاتے ہیں اور چند لمحوں بعد جلتی ہوئی راکھ کو پھینک دیا جاتا ہے ویسا ہی حال ہمارے ”دوست “ ملک امریکہ کا ہے۔
امریکی صدارتی مہم کے دوران اقوامِ عالم میں یہ بات بہت زوروشور سے گردش کررہی تھی کہ باراک حسین اوباما مسلمان ہیں اور اسی ناتے پاکستان کی عوام یکلخط دو گروہوں میں تقسیم ہوگئی ،ایک گروہ اوباما کو مسلمان کہنے پر مَصرہے اور دوسرا اُسے عیسائی کہنے پر تلا ہوا ہے۔لیکن دوستو بات مسلمان اور عیسائی کی نہیں ہے بلکہ بات توباراک حسین اوباما کے بقول ایک تبدیلی کے آغاز کی ہے۔اب یہ تبدیلی کس نوعیت کی ہوتی ہے؟اور کیا یہ تبدیلی صرف امریکی مفاد کے لیے ہوگی یا پھر تیسری دنیا کے ممالک بشمول پاکستان کے لیے بھی سود مند ہوگی؟مگر یہاں ذہن کے دریچوںمیں سوچا جائے تویہ محسوس کرنا ذرا بھی مشکل نہیں ہے کہ ہمارے ہاں تو اقتدار محض حکمرانی کا"چسکا "اور"لوٹنے "کا مہذب طریقہ ہوتا ہے،جبکہ یورپین ممالک کے حکمران منتخب ہو کر اپنی اور اپنے ملک کی بھلائی اور مفاد کے لیے کام کرتے ہیں۔ان سَرد ممالک کے نو منتخب حکمران اپنی جیبوں کو گرم کرنے کےلیے اپنے ممالک سے باہر نہ سوئس بنک اکاؤنٹ کھلواتے ہیں اور نہ ہی اپنے جسم کو"حرارت"پہنچانے کے لیے کوئی سرے محل جیسی شے بنواتے ہیں بلکہ وہ لوگ تو اپنی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔اگر مزید غور کریں تو وہاں کے حکمران عوام کو اُجالوں کی نئی دنیا دینے کے خواہاں ہیں جب کہ ہمارے ہاں تو ایک گھنٹہ کا اُجالا،نالیوں سے پانی اور پائپوں سے گیس بھی چھین کر پتھر کے زمانے میں بھیجنے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔بہرحال دِل سخت گرفتہ ہے اس لیے ہم اپنے عنوان سے تھوڑا سا کِھسک گئے۔ہاں! تو ہم بات کررہے تھے،جناب انکل بُش جونئیر کی، کہ کیا تاریخ بش کے کارنامے بھلا دے گی؟
قارئین !تاریخ ہمیشہ اپنے سنہرے اوراق میں ان لوگوں کو جگہ دیتی ہے جو فلاح و بہبود اور رہنمائی جیسے کارنامے سر انجام دیں،اور تاریخ کے سیاہ ابواب میں ان لوگوں کے لیے جگہ ہوتی ہے جو تخریب پسند اورضمیر کی آواز سے بے بہرہ ہوتے ہیں اور اب 20جنوری2009عکو ان سیاہ ابواب کے آخر میں ایک اور باب سابق انکل سام "بادِبم و غم" کا اضافہ ہوا ہے۔اس تخریب اور دہشت پسند شخص کی تاریخ بھی چار پانچ مُمالک پر مُحیط ہے جن میں پاکستان،افغانستان،فلسطین ،عراق اور برطانیہ شامل ہیں،اِن میں سے اوّل الذکر اور آخرالذکرملک تو ان صاحب کے قدم بقدم ساتھی رہے لیکن امریکہ اور بش کا دوست ہونے کے ناطے سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑا جو شاید کہ ہمارے آنے والی نسلیں بھی اٹھائیں گی اور ہر پاکستانی جانتا ہے کہ اسی دوست ملک کی شہہ پرآج اسرائیل اور بھارت باالترتیب وحشیانہ بربریت اور ڈراوے دے رہے ہیں۔
تاریخ کے اس سیاہ باب کو تب ہی فراموش کیا جاسکتا ہے جب پاکستان کی بیساکھی والی جمہوریت اپنے پاؤں پرکھڑی ہو اور امریکہ بہادر کے "مسلمان"حکمران باراک حسین اوباما صحیح معنوں میں اَمن کے عَلمبردار بنتے ہوئے اسرائیل ،بھارت کو نتھ ڈالیں،اقوامِ عالم نے گزشتہ آٹھ سالوں سے دیکھ لیا ہے کہ واقعی جنگ مسائل کا حل نہیں۔اگر مہذب اقوام خود مسائل حل کرنے کی خواہاں ہیں تو مذاکرات کے ذریعے مسائل کا تصفیہ ہو سکتا ہے۔اگر جنگ ہی مسائل کا حل ہوتی تو آج افغانستان اور عراق پر لشکر کشی کے باوجود امریکہ بہادر حیلے بہانے سے مذاکرات کی باتیں نہ کررہا ہوتا۔اِس لیےاِن مہذب اقوام کو چاہیے کہ مل بیٹھ کر مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کا حَل نکالے ، اور کسی ملک کو بھی دوسرے ملک کی حدود و قےود کی خلاف ورزی کرنے سے سختی سے روکا جائے ۔اگر اُن دونوں مسائل کا حل ہو جاتا ہے تو تقریباً آدھی دنیا پر امن ہو جائے گی۔اگر جارج بش کے کارناموں کو بھلانا مقصود ہے تواقوام ِ عالم کے ہمراہ اقوام ِ متحدہ کوبھی اپنا پرامن اورپرخلوص کردار ادا کرنا پڑے گا۔
دوستو تمام بات کا لب ِلباب یہ نکلاہے کہ بش اب ماضی کا کردار بن گیا ہے اور اس جہاں میں اس جیسے کرداروں کی کمی بھی نہیں ہے' اس جیسے کارناموں کو دہرانا بے حد آسان ہے لیکن اس گزرے ہوئے کل کی تصیح کرنابے حد مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں۔گزرا ہوا کل، تو درست ہونے سا رہا مگر، آج ،سے لے کر ،آنے والے کل ،کو بہتر کرنے کا چیلنج اب صرف اور صرف "باراک حسین اوباما"کے سپرد ہے۔
Feedback:peghaamnews@gmail.com
٭٭**٭٭
پیر، 7 اپریل، 2008
اَب میری باری ہے! ۔۔۔۔ کالم
اَب میری باری ہے!
تحریر: رحمان محمودخان
آصف علی زرداری نے اپنی باری کے لیے اتنا عرصہ انتظار کیا کہ اگر ان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو شاید ہار مان جاتا لیکن سپوتِ سندھ نے چوہدری اعتزاز احسن کو یہ یاد دلایا ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو اورپاکستان پیپلز پارٹی نے عدلیہ کی بحالی کے جو وعدے لیے ہیں وہ اپنی جگہ لیکن تمام جج صاحبان اس بات کابھی خیال رکھیں اور اپنے اپنے گریبان میں جھانکیں کہ آج وہی لوگ پیپلز پارٹی اورآصف علی زرداری کے رحم و کرم پر ہیں۔بالآخر اس کڑوے سچ کا کڑوا گھونٹ چوہدری اعتزاز احسن کو پینا ہی پڑے گاکیونکہ ججوں کی بحالی کو اتنا بڑا ایشو بنا دیا گیا ہے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ ججز کی بحالی سے ہی مہنگائی اور بجلی جیسے مسائل کا حل ممکن ہے۔ہر 15یا 20کے بعد احتجاج کا ایک نےا روپ سامنے آتا ہے کبھی دھرنے تو کبھی جلوس نکالے جاتے ہیں،پھر افتخار ڈے منایا جاتا ہے۔کبھی لانگ مارچ کا ارادہ بدل کر سیاہ پٹیاںباندھ کر بلیک فلیگ ویک منایا جاتا ہے۔
پچھلے چند ماہ سے پاکستان کے اندرونی مسائل اتنے بڑھ چکے ہیں کہ ہم آئندہ ایک ڈیڑھ سال تک بیرونی مسائل مثلاًمسئلہ کشمیر،افغانستان کا مسئلہ،امریکی افواج کی واپسی اور پاکستانی دریاؤں پر بھارتی ڈیموں کی تعمیرجیسے مسائل پر توّجہ دینے کے قابل نہیں،مہنگائی نے صرف ایک طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔بجلی کی پیداوار نہیں ہے،گندم کی قلّت ہے،معاشرہ طبقاتی تقسیم کا شکار ہو چکا ہے،سماجی نظام ‘ سامراجی نظام کے زیرِاثر کام کر رہا ہے،میڈیا نے آزادیِ صحافت کا معنی ہی کچھ اور لے لیا ہے،تعلیمی نظام ‘ شعور کی فکر سے آزاد ہے ‘ نوجوان جس نظام میں رہ رہے ہیں اس نظام میں بے حسی انکا شعار بن چکی ہے،لاقانونیت بڑھ چکی ہے اور ناجانے ان گنت مسائل سے لبریز یہ پاکستان باریوں کی سیاست کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔
ان باریوں کی سیاست نے ملک کو عدم استحکام کی اندھی روش پر لا کھڑا کیا ہے۔اب چار پانچ سال کے شور وغل کے بعد انتخابات میںصدرمشّرف کی مخالف جماعتیں کامیاب ہوئیں ہیں تو ان جماعتوں میں بھی اتّحاد ہونے کے باوجودآپسی معاملات میں کہیں نہ کہیں خلا ضرور موجود ہے اور اس خلا میں مفاد بھی موجود ہے ۔ اس بات کا اندازہ وہ شخص بخوبی لگاسکتا ہے جو غیر جانبدار ہو کر تجزیہ کرے ‘سوچے‘ سمجھے۔سابق جج ملک کے مستقبل کو داؤ پر لگا کر سیاسی جماعتوں کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کر رہے ہیں اوریہی حال سیاستدانوں کا ہے جو آمر انی نظام کو تبدیل کرنے کے لیے ججوں اور وکیلوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔یہ انتقامی اور ضِد کی سیاست اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ جو ناانصافی آصف علی زرداری کے ساتھ کی گئی اب وہ اس کا جواب بھی دیں گے کیونکہ اب عوام نے ان کو باری دی ہے۔لیکن مجھ ناچیز کاآصف علی زرداری کو یہی مشورہ ہے کہ جس طرح آپ نے ایم کیو ایم اور ان کے شہید کارکنوں کو معاف کیا ہے اس طرح آپ اب پچھلی باتوں اور یادوں کو بھول کر ایک متّحدہ سیاست کی داغ بیل ڈالے،انتقامی سیاست کو یکسر فراموش کر کے ملک کو بحرانوں سے نکالیں اور اپنے ساتھ ساتھ اپنی اتّحادی جماعتوں کی بھی توجّہ اس طرف دلائیں،افہام و تفہیم سے جس طرح وزیرِاعظم کا فیصلہ کیا ہے اسی طرح افہام و تفہیم سے تما م اتّحادی جماعتوں کو قائدین اور صدر مشّرف کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کر لیں۔ تب کہیں جا کر محترمہ بے نظیر بھٹو کی روح کو سکون اور پاکستان کی ڈوبتی ناؤسنبھل پائے گی۔
اس کالم کی توسط سے میں آصف علی زرداری کو یہ باور کرانا چاہوں گاکہ جناب ‘ عوام نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو کے نعرے روٹی،کپڑا اور مکان کو سنا ‘ ضیاءالحق کے"اسلامی نفاذ" کی بازگشت بھی سنی ‘پاکستان پیپلز پارٹی کی دور اندیش سیاستدان محترمہ بے نظیر بھٹوکی آواز پر دو مرتبہ لبّیک کہا ‘ پھر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف کی جرات اور بے باکی کے نعرے ہم آواز ہو کر لگائے پھر صدر مشّرف اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہان کو ” سب ٹھیک ہے‘ ترقّی ہو رہی ہے ‘ خزانہ بھرا ہوا ہے“ کی سر گوشی بھی سنی لیکن یہ سب کچھ ہوا ‘ترقّی بھی ہوئی مگر کہاں؟ آج دو وقت کی روٹی کا مسئلہ بنا ہوا ہے، مہنگائی نے غریب کی پہنچ سے تقریباً ہر شے کو دور کر دیا ہے،اکثریت کے پاس ذاتی مکان نہیں، اسلامی نظام کا نفاذ تو دور کی بات‘ ہم مغرب کی تقلید کررہے ہیں۔
مختصراً یہ کہ آج آپ ایسا نظام نافذالعمل کریں جو غریب کو امیر نہ سہی لیکن اس کا گزارہ ممکن بنا سکے۔عوام کا اس بار آپ کو باری دینے کا مقصد بھی یہ ہے کہ شاید آپ میں وہ دَم ہے جو پچھلے حکمرانوں میں نہیں تھا۔اب فیصلہ کرنا آپ کا کام ہے۔
تحریر: رحمان محمود خان
Feedback:peghaamnews@gmail.com٭٭**٭٭
