Column لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Column لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 4 مارچ، 2009

منزِل کے لیے دو گام چلوں

0 comments
منزِل کےلیےدوگام چلوں
تحریر: رحمان محمود خان

باہمی چپقلش،قتل،ڈکیتی،رہزنی،اغواء،تشدّد،عَصمت فروشی،زنا،رشوت خوری،سفارش،حق تلفی،بَدعہدی،احسان فراموشی،عداوتیں،خوشامدیں،جان و مال و املاک کا نقصان،طبقاتی استحصالی،جھوٹ،محرومی،ناانصافی،دہشت گردی، فائرنگ،خودکش حملے وغیرہ سے مزین معاشرہ۔۔۔۔کیا کبھی ترقی کر سکتا ہے؟افسوس ناک بات یہ ہے کہ ان تمام "خوبیوں"سے آراستہ ہمارا معاشرہ ہے۔
٭  آخر کب تک ہمارے معاشرے کی ماؤں کے معصوم لخت ِجگر یونہی سڑکوں پر شہید ہو کر یادگار بنتے رہیں گے؟
٭  ہم کب تک تحقیقات کا ڈھنڈورا پیٹتے رہیں گے؟
٭ ہم کب تک دشمنان ِ وطن کو مواقع اور خلا دیتے رہیں گے؟
دوستو!یہ ایسے سوال ہیں جن کے جواب نہ تو ماؤں کی آنکھوں میں اٹکے ہوئے سوکھے آنسو دے سکتے ہیں اور نہ باپوں کے لرزتے ہاتھ۔یہ جواب نہ بیواؤں کی چیخوں کے پاس ہے اور نہ ہی شہداءکی وردی کے پاس ہیں۔اگر ایک بھی مجرم کو پہلے دن ہی سے کھلی چھوٹ دینے کی بجائے کیفر ِکردار تک پہنچایا دیا جاتا تو آج وطن ِ عزیز پر ذرا سی بھی آنچ نہ آتی۔
ہم ابھی تک ان 61سالوں میں منزل کا تعین ہی نہیں کر سکے۔اس عرصے میں ہر آنے والے آمر اور حکمران نے اکثر کام مشترک اور انتقام کےلیےکیے ہیں۔جو صرف اور صرف منفی ہی تھے۔یہ دیکھا گیا کہ ہر حادثے اور سانحے کے بعد مقتدر طبقے نے روایتی جملوں کا تبادلہ کیا اور نتیجہ صفر رہا،مجرم دندناتے پھرتے ہیں،قانون تو ہے مگر عملدرآمد نہیں،سکیورٹی تو ہے مگر تحفظ نہیں۔1947ع تا 2009ع تک پاکستان دوراہے پر ہی کھڑا ہے۔ایسے محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان آغاز سے ہی پل صراط سے گزر رہا ہے۔ایک حکومت کے جانے کے بعد نئے آنے والوں نے سابقہ حکومت کے اقدامات کو تہہ و بالا کر دےا اور نئے منصوبوں کا آغاز کر دیا،اس کے ساتھ ساتھ سابقہ دور کے اقدامات اور منصوبوں کو ناصرف تنقید کا نشانہ بنایا بل کہ جعلسازی اور دوسری دفعات لگا کر پھنسا دیا جاتا ہے۔
قارئین! درج بالا ذکر صرف ایک مختصر سی تصویر کشی ہے ۔جس کا سامنا آج ہمارے بزرگوں کو ہے تو کل لازماً ہمیں ہوگا۔ اس لئے آج نہیں ابھی سے یہ سوچنا ہوگا کہ ہمیں کن نقاط پر غور کرنا ہے؟مستقبل کے لیے کیا حکمت ِ عملی اپنانی چاہیے؟اور کیا اقدامات کرنے چاہیے؟آج ہمارے حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے کے علاوہ خارجہ پالیسی سمیت ہر پالیسی پر نظر ِثانی کرنا پڑے گی۔
گزشتہ روز سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ نا صرف پاکستان کو بدنام کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے بل کہ عوام کے پرانے زخموں کو بھی ہرا کر گیا ہے۔ایف آئی اے بلڈنگ کے بعد اب لبرٹی چوک بھی یادگار کے طور پر مشہور ہو گیا ہے۔پچھلی نسل والے کہتے تھے کہ فلاں جگہ پر قرارداد پاکستان پاس ہوئی اس لیےہاں یادگار بنائی گئی جب کہ ہم آنے والی نسلوں کو بتائیں گے کہ فلاں جگہ پر دہشت گردوں نے معصوم شہریوں کو شہید کیا تھا اس لیے وہاں یادگار بنائی گئی۔واللہ کیسا عالم ہوگا،اللہ کی پناہ۔
اندرون ِ ملک و بیرون ِملک ‘ تمام شخصیات نے اس واقعہ پر انتہائی افسوس اور دکھ کا اظہا ر کےا اور ہم نے ان تمام اظہار ِ افسوس کو آئندہ کے لیے محفوظ کر لیا ہے۔بہر حال اب حکومت ِ پاکستان کے آئندہ اقدامات کیا ہوں گے ؟یہ تو( آنے والاوقت نہیں) گزرا ہو ا کل بتا سکتا ہے۔نہایت افسوس ہوتا ہے کہ پاکستان بھٹکے ہوئے راہی کی طرح منزل سے دور ہوتا جارہا ہے۔پہلے تو دہشت گرد تقریباً عوام تک ہی محدود تھے لیکن اب تو ہمارے مہمان بھی ان کی زد سے بچ نہیں پا رہے۔اب مزید کوئی موقع نہیں،گڈ گورننس کے نام لیواؤں کوواقعی اپنے دلوں میں پاکستان کی خدمت اور ترقی کا مخلصانہ جذبہ موجزن کرنا پڑے گا ‘کیوں کہ جب جذبے اور کِردار مخلص ہوں تو سمت کا تعین آسان ہو جا تا ہے اور منزل ‘دوگام ہی چل کر مل جاتی ہے۔
Feedback:peghaamnews@gmail.com
٭٭**٭٭

پیر، 9 فروری، 2009

BADALTI HOWI DUNYA AUR HAMARA NU JAWAN

0 comments
بدلتی ہوئی دنیا اور ہمارا نوجوان
اشاعت:ماہنامہ ندائے ملت (5فروری2009ع)
Email: peghaamnews@gmail.com

ہفتہ، 24 جنوری، 2009

کیا تاریخ بُش کےکارنامےبھلادےگی؟ ۔۔۔۔ کالم

0 comments
کیا تاریخ بُش کےکارنامےبھلادےگی؟
تحریر: رحمان محمود خان

قارئین!اس کالم کا عنوان ایک ایساسوال ہے جس کا جواب تو فی الحال کسی کے پاس نہیں ہے لیکن میرے نزدیک اس سوال کا درست جواب دینے کے لیےامریکہ کے نو منتخب صدر باراک حسین اوباما کو اَن تھک کوششیں اور محنت کرنا ہوگی،اگر باراک حسین اوباما ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے اپنے ہر فیصلے کو علاقائی مفاد اور عالمی تناظر میں پرکھیں گے اور پھر کوئی متفقہ فیصلہ کریں گے تو ایک دن تاریخ بش کے انسانیت سوز اورذلت آمیز کارناموں کو پسِ پشت ڈال دے گی۔
نوجوانوں اور بزرگوں اگر امریکہ کی دوستی کی وضاحت ایک مثال کے ذریعے دی جائے تو سمجھنے میں کافی آسانی ہو جائے گی۔امریکہ یا اس کے منتخب ہونے والے صدورکی ہم جیسے تیسری دنیا کے ممالک سے دوستی اور سلوک ایک سگریٹ کے ٹکڑے جیسا ہے ،پہلے جلایا ، بھڑکایا اور پھر پاؤں رکھ کر مَسل دیا۔جس طرح سگریٹ کوکچھ دیر تک سلگایا جاتا ہے اور پھر دھویں کے بھبھولے بنائے جاتے ہیں اور چند لمحوں بعد جلتی ہوئی راکھ کو پھینک دیا جاتا ہے ویسا ہی حال ہمارے ”دوست “ ملک امریکہ کا ہے۔
امریکی صدارتی مہم کے دوران اقوامِ عالم میں یہ بات بہت زوروشور سے گردش کررہی تھی کہ باراک حسین اوباما مسلمان ہیں اور اسی ناتے پاکستان کی عوام یکلخط دو گروہوں میں تقسیم ہوگئی ،ایک گروہ اوباما کو مسلمان کہنے پر مَصرہے اور دوسرا اُسے عیسائی کہنے پر تلا ہوا ہے۔لیکن دوستو بات مسلمان اور عیسائی کی نہیں ہے بلکہ بات توباراک حسین اوباما کے بقول ایک تبدیلی کے آغاز کی ہے۔اب یہ تبدیلی کس نوعیت کی ہوتی ہے؟اور کیا یہ تبدیلی صرف امریکی مفاد کے لیے ہوگی یا پھر تیسری دنیا کے ممالک بشمول پاکستان کے لیے بھی سود مند ہوگی؟مگر یہاں ذہن کے دریچوںمیں سوچا جائے تویہ محسوس کرنا ذرا بھی مشکل نہیں ہے کہ ہمارے ہاں تو اقتدار محض حکمرانی کا"چسکا "اور"لوٹنے "کا مہذب طریقہ ہوتا ہے،جبکہ یورپین ممالک کے حکمران منتخب ہو کر اپنی اور اپنے ملک کی بھلائی اور مفاد کے لیے کام کرتے ہیں۔ان سَرد ممالک کے نو منتخب حکمران اپنی جیبوں کو گرم کرنے کےلیے اپنے ممالک سے باہر نہ سوئس بنک اکاؤنٹ کھلواتے ہیں اور نہ ہی اپنے جسم کو"حرارت"پہنچانے کے لیے کوئی سرے محل جیسی شے بنواتے ہیں بلکہ وہ لوگ تو اپنی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔اگر مزید غور کریں تو وہاں کے حکمران عوام کو اُجالوں کی نئی دنیا دینے کے خواہاں ہیں جب کہ ہمارے ہاں تو ایک گھنٹہ کا اُجالا،نالیوں سے پانی اور پائپوں سے گیس بھی چھین کر پتھر کے زمانے میں بھیجنے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔بہرحال دِل سخت گرفتہ ہے اس لیے ہم اپنے عنوان سے تھوڑا سا کِھسک گئے۔ہاں! تو ہم بات کررہے تھے،جناب انکل بُش جونئیر کی، کہ کیا تاریخ بش کے کارنامے بھلا دے گی؟
قارئین !تاریخ ہمیشہ اپنے سنہرے اوراق میں ان لوگوں کو جگہ دیتی ہے جو فلاح و بہبود اور رہنمائی جیسے کارنامے سر انجام دیں،اور تاریخ کے سیاہ ابواب میں ان لوگوں کے لیے جگہ ہوتی ہے جو تخریب پسند اورضمیر کی آواز سے بے بہرہ ہوتے ہیں اور اب 20جنوری2009عکو ان سیاہ ابواب کے آخر میں ایک اور باب سابق انکل سام "بادِبم و غم" کا اضافہ ہوا ہے۔اس تخریب اور دہشت پسند شخص کی تاریخ بھی چار پانچ مُمالک پر مُحیط ہے جن میں پاکستان،افغانستان،فلسطین ،عراق اور برطانیہ شامل ہیں،اِن میں سے اوّل الذکر اور آخرالذکرملک تو ان صاحب کے قدم بقدم ساتھی رہے لیکن امریکہ اور بش کا دوست ہونے کے ناطے سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑا جو شاید کہ ہمارے آنے والی نسلیں بھی اٹھائیں گی اور ہر پاکستانی جانتا ہے کہ اسی دوست ملک کی شہہ پرآج اسرائیل اور بھارت باالترتیب وحشیانہ بربریت اور ڈراوے دے رہے ہیں۔
تاریخ کے اس سیاہ باب کو تب ہی فراموش کیا جاسکتا ہے جب پاکستان کی بیساکھی والی جمہوریت اپنے پاؤں پرکھڑی ہو اور امریکہ بہادر کے "مسلمان"حکمران باراک حسین اوباما صحیح معنوں میں اَمن کے عَلمبردار بنتے ہوئے اسرائیل ،بھارت کو نتھ ڈالیں،اقوامِ عالم نے گزشتہ آٹھ سالوں سے دیکھ لیا ہے کہ واقعی جنگ مسائل کا حل نہیں۔اگر مہذب اقوام خود مسائل حل کرنے کی خواہاں ہیں تو مذاکرات کے ذریعے مسائل کا تصفیہ ہو سکتا ہے۔اگر جنگ ہی مسائل کا حل ہوتی تو آج افغانستان اور عراق پر لشکر کشی کے باوجود امریکہ بہادر حیلے بہانے سے مذاکرات کی باتیں نہ کررہا ہوتا۔اِس لیےاِن مہذب اقوام کو چاہیے کہ مل بیٹھ کر مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کا حَل نکالے ، اور کسی ملک کو بھی دوسرے ملک کی حدود و قےود کی خلاف ورزی کرنے سے سختی سے روکا جائے ۔اگر اُن دونوں مسائل کا حل ہو جاتا ہے تو تقریباً آدھی دنیا پر امن ہو جائے گی۔اگر جارج بش کے کارناموں کو بھلانا مقصود ہے تواقوام ِ عالم کے ہمراہ اقوام ِ متحدہ کوبھی اپنا پرامن اورپرخلوص کردار ادا کرنا پڑے گا۔
دوستو تمام بات کا لب ِلباب یہ نکلاہے کہ بش اب ماضی کا کردار بن گیا ہے اور اس جہاں میں اس جیسے کرداروں کی کمی بھی نہیں ہے'  اس جیسے کارناموں کو دہرانا بے حد آسان ہے لیکن اس گزرے ہوئے کل کی تصیح کرنابے حد مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں۔گزرا ہوا کل، تو درست ہونے سا رہا مگر، آج ،سے لے کر ،آنے والے کل ،کو بہتر کرنے کا چیلنج اب صرف اور صرف "باراک حسین اوباما"کے سپرد ہے۔
Feedback:peghaamnews@gmail.com
٭٭**٭٭

پیر، 7 اپریل، 2008

اَب میری باری ہے! ۔۔۔۔ کالم

0 comments
اَب میری باری ہے!
تحریر: رحمان محمودخان

گزشتہ دنوں ایک نجی چینل کے پروگرام کومیں سن رہا تھا جس میں میزبان نے بیان کیا کہ آج پاکستان پیپلزپارٹی کے کوچیئرمین(Co-Chairman) آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کے اہم راہنما اور بار کونسل کے صدرچوہدری اعتزاز احسن کی سرزنش کی،آصف علی زرداری نے اعتزاز احسن کو کہا کہ جناب آپ جو عدلیہ کی بحالی کی بات کرتے ہیں ،آپ اس وقت کہاں تھے جب میں پابندِسلاسل تھا۔اگر بغور تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جس عدلیہ کی بحالی کی باتیں کی جارہی ہیں ان میں اکثر جج صاحبان ایسے ہیں جو نواز شریف اورصدر مشّرف کے شروع کے دور میں آصف علی زرداری کوقید میں دیکھنا چاہتے تھے۔جب زرداری کی ضمانت کے کاغذ جمع کرائے جاتے تویہ جج صاحبان ان کاغذات کو ردی کی ٹوکری کی زینت بنا دیتے۔مگر اب حالات بدل گئے ہیں ،سیاسی تاریخ مکمل تبدیل ہو چکی ہے۔جیل میں قید کاٹنے والے آج سج دھج کر کرسی پر جلوہ افروز ہیں اب قسمت نے دوبارہ یاوری کی ہے اور ایک بار پھر پاکستان پیپلز پارٹی کی باری آئی ہے لیکن اس پیچ کا موقع آصف علی زرداری کو ملا ہے۔
آصف علی زرداری نے اپنی باری کے لیے اتنا عرصہ انتظار کیا کہ اگر ان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو شاید ہار مان جاتا لیکن سپوتِ سندھ نے چوہدری اعتزاز احسن کو یہ یاد دلایا ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو اورپاکستان پیپلز پارٹی نے عدلیہ کی بحالی کے جو وعدے لیے ہیں وہ اپنی جگہ لیکن تمام جج صاحبان اس بات کابھی خیال رکھیں اور اپنے اپنے گریبان میں جھانکیں کہ آج وہی لوگ پیپلز پارٹی اورآصف علی زرداری کے رحم و کرم پر ہیں۔بالآخر اس کڑوے سچ کا کڑوا گھونٹ چوہدری اعتزاز احسن کو پینا ہی پڑے گاکیونکہ ججوں کی بحالی کو اتنا بڑا ایشو بنا دیا گیا ہے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ ججز کی بحالی سے ہی مہنگائی اور بجلی جیسے مسائل کا حل ممکن ہے۔ہر 15یا 20کے بعد احتجاج کا ایک نےا روپ سامنے آتا ہے کبھی دھرنے تو کبھی جلوس نکالے جاتے ہیں،پھر افتخار ڈے منایا جاتا ہے۔کبھی لانگ مارچ کا ارادہ بدل کر سیاہ پٹیاںباندھ کر بلیک فلیگ ویک منایا جاتا ہے۔
پچھلے چند ماہ سے پاکستان کے اندرونی مسائل اتنے بڑھ چکے ہیں کہ ہم آئندہ ایک ڈیڑھ سال تک بیرونی مسائل مثلاًمسئلہ کشمیر،افغانستان کا مسئلہ،امریکی افواج کی واپسی اور پاکستانی دریاؤں پر بھارتی ڈیموں کی تعمیرجیسے مسائل پر توّجہ دینے کے قابل نہیں،مہنگائی نے صرف ایک طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔بجلی کی پیداوار نہیں ہے،گندم کی قلّت ہے،معاشرہ طبقاتی تقسیم کا شکار ہو چکا ہے،سماجی نظام ‘ سامراجی نظام کے زیرِاثر کام کر رہا ہے،میڈیا نے آزادیِ صحافت کا معنی ہی کچھ اور لے لیا ہے،تعلیمی نظام ‘ شعور کی فکر سے آزاد ہے ‘ نوجوان جس نظام میں رہ رہے ہیں اس نظام میں بے حسی انکا شعار بن چکی ہے،لاقانونیت بڑھ چکی ہے اور ناجانے ان گنت مسائل سے لبریز یہ پاکستان باریوں کی سیاست کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔
ان باریوں کی سیاست نے ملک کو عدم استحکام کی اندھی روش پر لا کھڑا کیا ہے۔اب چار پانچ سال کے شور وغل کے بعد انتخابات میںصدرمشّرف کی مخالف جماعتیں کامیاب ہوئیں ہیں تو ان جماعتوں میں بھی اتّحاد ہونے کے باوجودآپسی معاملات میں کہیں نہ کہیں خلا ضرور موجود ہے اور اس خلا میں مفاد بھی موجود ہے ۔ اس بات کا اندازہ وہ شخص بخوبی لگاسکتا ہے جو غیر جانبدار ہو کر تجزیہ کرے ‘سوچے‘ سمجھے۔سابق جج ملک کے مستقبل کو داؤ  پر لگا کر سیاسی جماعتوں کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کر رہے ہیں اوریہی حال سیاستدانوں کا ہے جو آمر انی نظام کو تبدیل کرنے کے لیے ججوں اور وکیلوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔یہ انتقامی اور ضِد کی سیاست اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ جو ناانصافی آصف علی زرداری کے ساتھ کی گئی اب وہ اس کا جواب بھی دیں گے کیونکہ اب عوام نے ان کو باری دی ہے۔لیکن مجھ ناچیز کاآصف علی زرداری کو یہی مشورہ ہے کہ جس طرح آپ نے ایم کیو ایم اور ان کے شہید کارکنوں کو معاف کیا ہے اس طرح آپ اب پچھلی باتوں اور یادوں کو بھول کر ایک متّحدہ سیاست کی داغ بیل ڈالے،انتقامی سیاست کو یکسر فراموش کر کے ملک کو بحرانوں سے نکالیں اور اپنے ساتھ ساتھ اپنی اتّحادی جماعتوں کی بھی توجّہ اس طرف دلائیں،افہام و تفہیم سے جس طرح وزیرِاعظم کا فیصلہ کیا ہے اسی طرح افہام و تفہیم سے تما م اتّحادی جماعتوں کو قائدین اور صدر مشّرف کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کر لیں۔ تب کہیں جا کر محترمہ بے نظیر بھٹو کی روح کو سکون اور پاکستان کی ڈوبتی ناؤسنبھل پائے گی۔
اس کالم کی توسط سے میں آصف علی زرداری کو یہ باور کرانا چاہوں گاکہ جناب ‘ عوام نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو کے نعرے روٹی،کپڑا اور مکان کو سنا ‘ ضیاءالحق کے"اسلامی نفاذ" کی بازگشت بھی سنی ‘پاکستان پیپلز پارٹی کی دور اندیش سیاستدان محترمہ بے نظیر بھٹوکی آواز پر دو مرتبہ لبّیک کہا ‘ پھر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف کی جرات اور بے باکی کے نعرے ہم آواز ہو کر لگائے پھر صدر مشّرف اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہان کو ” سب ٹھیک ہے‘ ترقّی ہو رہی ہے ‘ خزانہ بھرا ہوا ہے“ کی سر گوشی بھی سنی لیکن یہ سب کچھ ہوا ‘ترقّی بھی ہوئی مگر کہاں؟ آج دو وقت کی روٹی کا مسئلہ بنا ہوا ہے، مہنگائی نے غریب کی پہنچ سے تقریباً ہر شے کو دور کر دیا ہے،اکثریت کے پاس ذاتی مکان نہیں، اسلامی نظام کا نفاذ تو دور کی بات‘ ہم مغرب کی تقلید کررہے ہیں۔
مختصراً یہ کہ آج آپ ایسا نظام نافذالعمل کریں جو غریب کو امیر نہ سہی لیکن اس کا گزارہ ممکن بنا سکے۔عوام کا اس بار آپ کو باری دینے کا مقصد بھی یہ ہے کہ شاید آپ میں وہ دَم ہے جو پچھلے حکمرانوں میں نہیں تھا۔اب فیصلہ کرنا آپ کا کام ہے۔

تحریر: رحمان محمود خان
Feedback:peghaamnews@gmail.com
 
٭٭**٭٭

ہفتہ، 8 مارچ، 2008

اندرونی اور بیرونی خلفشاریاں

0 comments

اندرونی اور بیرونی خلفشاریاں
رحمان محمود خان

پچھلے ایک ڈیڑھ سال سے پاکستان اور پاکستانی عوام کو جس طرح "جلتی ہوئی ٹھنڈی آگ " میں جھونکا جا رہا ہے اس کا اندازہ پاکستان کی بھولی عوام کو نہ سہی لیکن سیاستدانوں اور حکمرانوں کو ضرور ہوچکاہے۔ملک جن مسائل سے دوچار ہے اور مزید جن گھمبیر مسائل میں گرفتار ہوتا جارہا ہے،اس تمام کیےدھرے میں اندرونی اور بیرونی قوّتیں کارفرما ہیں۔یہ طاقتیں پاکستان پر ایک ایسی جنگ مسّلط کروا رہی ہیں جس کا انجام نہایت بھیانک اور "سَرد ہولناکی" کے علاوہ کچھ نہیں!یہ "سَرد ہولناکی" کیا ہے؟ہماری غریب عوام جو بھوک ، ننگ اور اَفلاس کی طرف تیزی سے گامزن ہے'میں چند لوگ ایسے ہوں گے جو ملکی سیاست اور اندرونی وبیرونی خلفشاریوں پر نظر رکھے ہوئے ہوں گے جب کہ باقی ماندہ طبقہ تو علی ا لصبح کام پر نکلتے ہیں اور رات ڈھلے جب گھر لوٹتے ہیں تو ان کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ سوچ سکیں ،کسی بحث مباحثہ میں حصّہ لے سکیں یا پھر تجزیہ کرسکیں۔عوام کی توجّہ تقسیم کرنے کی خاطر ملک پر بے شمار ایشوز تھوپ دیے گئے ہیں۔ہماری غریب عوام کی توجّہ اِن ایشوز کی طرف ایسی مبذول ہوئی ہے کہ وہ اپنے دیرینہ مسائل( جو اِن کو "سیاسی ورثہ" میں ملتے چلے آرہے ہیں)کی طرف سے دھیان ہٹ گیا ہے۔پاکستان جو 1947عسے ہی نازک موڑ پر چل رہا ہے،اب خانہ جنگی کی طرف رخ کر رہا ہے۔یہ اندرونی و بیرونی طاقتیں ملک میں انتشار اور خانہ جنگی کی جو کیفیات پیدا کر رہی ہیں اس سے سیاستدانوں اور حکمرانوں نے نہیں بَل کہ صرف پاکستان کا محنت کش اورغریب طبقہ ہی نبردآزما ہوگا۔کیوں کہ یہ سَرد ہولناکی ملک کو دیمک کی طرح ' چٹم ' کر رہی ہے۔
18فروری کے انتخابات کے بعدنئی حکومت نے جو 100دن کا پیکج دیا اس کے پورا ہونے کے بعد بے شما رلکھا اور کہا جا چکا ہے،صرف یہی اِک حقیقت ہے کہ ان 100دنوں میں حکمرانوں نے عوام کے گرد مہنگائی کے پھندے کو مزید تنگ کیا ہے اور غربت کے مکمل 'خاتمے' کا وعدہ پورا کرنے کی طرف پیش رفت کرہے ہیں۔یہ حکومت نہ 60معزول ججز کوبحال کروا سکی ہے اور نہ صدر کا مواخذہ کر سکی ہے،یہ حکومت نہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرواسکی ہے اور نہ ڈاکٹر عبدالقدیر کی نظر بندی ختم کروا سکی ہے،زرداری حکومت نہ ان بے گناہوں کو بازیاب کروا سکی ہے اور نہ ہی مہنگائی کا اژدھا قابو کرسکی ہے۔یہ تمام اس موجودہ حکومت کے وعدے بے مِثل تھے۔حکمران صرف اور صرف ہجوم میں دعوے ہی کر سکتے ہیں اور کچھ نہیں!جب کہ ہماری بھولی عوام ابھی بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ان آزمائے ہوئے لوگوں ہی میں سے کوئی آئے گا اور الٰہ دین کے چراغ سے ان کے دکھوں کا مداوا کرے گالیکن ہمارے سیاستدان ''یہ کریں گے 'وہ کریں گے'' کے راگ آلاپ رہےہیں مگر میرے بزرگ اور ریٹائر سیاستدانوں یہ وقت بلند و بانگ دعووں کا نہیں بلکہ عملی کام کرنے کا ہے۔
میں یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کروں گا کہ نیٹو فورسز پاک افغان سرحد پر جو نایاب خون کی ہولی کھیلنے میں مصروفِ عمل ہے' اس میں کسی اور کا نہیں بل کہ صِرف پاکستان کا ایسا نقصان ہے کہ ہماری عوام چاہتے ہوئے بھی اس جنگ سے بیس تیس سال تک نہیں نکل سکتے۔اس حقیقت کا ادراک عوام کو نہ سہی مگر سیاستدانوں ،حکمرانوں،بیوروکریٹس اور اربابِ اختیارکو ضرور ہے۔مگر یہ لوگ پھر بھی امریکیوں اور اس کے اتحادیوں کو مسلسل کہہ رہے ہیں کہ ''لگے رہو منّا بھائی''۔
میں قارئین کو یہ باور کرانا چاہتا ہوں کہ پاکستان اور پاکستانی قوم کچھ عرصے میں اس سَرد ہولناکی سے نکل کر خانہ جنگی کی طرف گامزن ہیں۔اگر اس بیماری کا علاج نہ کیا گیاتو یہ مرض ناسور بن کر وطن ِعزیز کی رگ و پہ میں سرایت کر جائے گا۔اس لیے ابھی بھی جاگنے کا وقت ہے،جاگ جاؤ!ورنہ آئندہ آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
پاکستان اِس وقت جن گھمبیر مسائل سے دوچار ہے'ان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ،صحت کی سہولتوں کا فقدان ، پٹرولیم مصنوعات میں روز بروز اضافہ ، بے روز گاری ، لوڈ شیڈنگ ، بجلی، پانی اور گیس کی عَدم فراہمی ، صنعتوں اور کارخانوں کی ہڑتالیں وغیرہ وغیرہ۔اس کے علاوہ پاکستانی فوج ، کا افغان بارڈر اور شمالی و قبائلی علاقہ جات میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف آپریشن سرِفہرست ہیں۔جب کہ دوسری طرف اندرونی و بیرونی خلفشاریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارتی فوج نے بھی ہلکا پھلکا "مشقی محاذ" کھول لیا ہے،اس کے علاوہ بھارت نے پاکستانی معیشت کو مزید نقصان پہنچانے اور دِگرگوں حالات پیدا کرنے کے لیے پاکستانی پانیوں پر56نئے ڈیم بنانے کا ایک منصوبہ تشکیل دیا ہے۔تھوڑا سا مزید آگے بڑھیں تو پاکستان کے دو اہم صوبے سرحد اور بلوچستان مسلسل حالتِ جنگ میں مبتلا ہیں۔
افواجِ پاکستان، جن کو عوام اپنے سر آنکھوں پر بٹھاتی تھی،جن کی بلائیں لیناغریب لوگ اپنا نصب العین سمجھتے تھے۔آج ان ہی کے ذریعے امریکی امداد کو "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کے نام پر استعمال کیا جارہا ہے اور اپنے ہی لوگوں کو مروایا جا رہا ہے۔پاکستان کے نام نہاد سیاستدانوں اور آمریت پسند حکمرانوں نے یہ تمام کام امریکہ اور اُس کے حواریوں کو خوش کرنے کے لیے کر تو دیےہیں لیکن اِن تمام معاملات کا موازنہ کریں تو کیا یہ سب کچھ صوبائیت پرستی کی جنگ نہیں بنتی جا رہی؟عوام میں صبر و برداشت کا مادہ ختم ہوتا جارہا ہے۔جب عوام کی بنیادی ضروریات ہی پوری نہیں ہوں گی تو وہ لازماً لوٹ کھسوٹ کا راستہ اپنائیں گے'اِس طرح کرپشن بڑھے گی اور جرائم میں اضافہ ہوگا۔
پاکستانی عوام جو کبھی غیّور ، وفا شعار اور محنتی کہلاتی تھی 'آج ان حکمرانوں اور سیاستدانوں کے ہاتھوں کھلونا بنی ہوئی ہے۔1947عسے 1971ع تک اور 1971عسے تاحال پاکستان نازک موڑ پر ہی سفر کر رہا ہے۔امریکہ وغیرہ پاکستان اور پاکستانی حکمرانوں کو ڈالروں کے'لشکارے'دِکھا کر اپنے مفادات کے لیےاستعمال کر رہا ہے اور ان ہی کے ذریعے ہمارے غریب طبقے پر خانہ جنگی مسلّط کروا رہا ہے۔پاکستان کو افغانستان بنانے کی حتٰی الامکان کوشش کی جا رہی ہے۔دوسری طرف ہمارے سیاستدان ،حکمران اور اَربابِ اِختیار اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کر رہے ہیں'کوئی لانگ مارچ کی بات کرتا ہے تو کوئی احتجاج اور دھرنوں کی۔ عوامی مسائل کو حل کرنے،با مقصد اور عملی کام کی طرف اِن کی توّجہ مستقل ناپید ہے۔ اِس کے برعکس تیسری طرف عوام بنیادی ضروریات اور دو وقت کی روٹی پورا کرنے کے چکر میں پھنسی ہوئی ہے۔اِس مثلّث(Triangle) میں صرف اور صرف عوام کا ستیاناس ہو رہا ہے۔
پاکستان میں یہ اندرونی و بیرونی سازشی عناصر جن کے عَمل اور سوچ دراصل ایک ہی ہے'ایک بار پھر پاکستان کو 1971عکے موڑ پر لا کھڑا کررہی ہیں جب کہ ہمارے حکمران خود سے کوئی قدم اُٹھانے کی بجائے غیروں کی طرف ہاتھ اور نگاہ پھیلائے بیٹھے ہیں۔اِسلامی دنیا کا واحد ایٹمی ملک ہونے کے باوجود کشکول پکڑنا ہمارے حکمرانوں کی عادت و فطرت بن چکی ہے 'لوٹ کھسوٹ ان کے خون میں رَچ بس چکی ہے۔
آج ہم سب کو سوچنا چاہیےکہ آخر کب یہ اندرونی اور بیرونی خلفشاریاں ختم ہوں گی؟اور ہم کب تک غیروں کے آگے ہاتھ پھیلاتے رہیں گے؟ علامہ اقبال نے اس روز کے لیےتو وہ خواب نہیں دیکھا تھا!

Feedback:peghaamnews@gmail.com
٭٭**٭٭

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *