اتوار، 31 جولائی، 2011

تھانہ کلچر اور پولیس گردی

1 comments
 تھانہ کلچر اور ۔۔۔کالم
تھانہ کلچر اور پولیس گردی
تحریر: رحمان محمودخان
کیاتھانہ کلچر کبھی ختم ہوگا؟
یہ ایک ایسا چبھتا سوال ہے جس کا جواب دلائل کی لمبی فہرست کے ساتھ روزانہ ملک کے اخبارات و جرائدکی زینت بنتا ہے،پاکستان کا کوئی ایسا روزنامہ یا ٹی وی چینل نہیں‘جہاںکالم نگاروں،رپورٹر حضرات اور اینکر پرسن نے تھانہ کلچر اور پولیس گردی پربحث مباحثہ اور تجاویزنہ دی ہوں۔اِن پروگراموں میں مدعو کیے گئے مہمان تھانہ کلچر اور پولیس گردی کو جَڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے اقدامات اور دعووں سے پروگرام کے (40منٹ)دورانیہ کو گلو خلاصی کراتے ہیں اور اِس بات پر ہی خوش ہو جاتے ہیں کہ انھوں نے کامیاب انٹرویو دے کر اینکرپرسن(میزبان) کو سَر کرلیا،لیکن آج تک تھانہ کلچر بَدل سکا اور نہ ہی پولیس کا نارواسلوک(پولیس گردی)۔
اَب تویہ تھانہ کلچر اور پولیس گردی ملکی سطح پرثقافتی ورثہ اور پہچان بن چکی ہے،جس میں غنڈہ گردی،قبضہ مافیااور دیگر جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی یا بلاواسطہ پشت پناہی کرنا، حق دار کو ناحق گالیاں اور نازیبا الفاظ کا استعمال شامل ہے۔راقم اِن محافظوں کے منہ سے یہ خرافات اور بے ہودہ زبان کا استعمال وغیرہ زمانہ طالبِ علمی سے سماعت کرتا رہاہے،لیکن چند روز قبل ایک ایساہی واقعہ راقم اور اہلِ خانہ کے ساتھ پیش آیا،”جَب خود پہ بیتتی ہے تو اندازہ ہوتا ہے کہ کیا بھاؤہے!“۔کچھ ایساہی ہوا۔۔۔کیوں کہ مَیں مختلف اخبارات ،نیوز ویب سائیٹس پر کالم اور فیچر لکھتا ہوں،اس لیے قارئین کو صِرف یہ بتانا مقصود ہے کہ تھانہ کلچر اور پولیس گردی ختم کرتے کرتے یہ حکومت بھی مدّت پوری کر چلی،جج حضرات فیصلے سناتے سناتے ریٹائرڈ ہو جاتے ہیں،مدعی اور حق دار افراد اپنامسئلہ،مدعا لے کر کورٹ کچہریوں میں پٹیشن وغیرہ دائر کرتے کرتے زندگی کی60ویں سالگرہ مناتے ہیں،اور ہم جیسے لوگ جہادباالقلم سے اِن چیرہ دستیوں کو درست کرنے کی کوشش میں وقت صَرف کرتے ہیں،جب کہ پولیس(جو لائن آرڈر کی درستگی کی بجائے ایک مافیاکا روپ دھار چکی ہے)اپنی دہاڑی بنانے کے عمل میں دِن رات کوشاں رہتی ہے۔قانون کا یہ بے لگام اِرتقائی سفررواں دواں رہتا ہے اور دوسری طرف غنڈہ عناصر،قبضہ مافیاحضرات ساز باز کرتے ہوئے اپنی دنیا سنوارنے اور بے گناہوں کی دنیا اُجاڑنے میں مصروف رہتے ہیں۔
اِن قبضہ مافیاعناصر کے ایسا کرنے میں اِن کی معاونت کون کرتا ہے؟یہ بتانا اس لیے ضروری نہیں کیوں کہ یہ حقیقت آپ بھی اچھی طرح سمجھتے اور جانتے ہیں،لیکن اِن معاونین کے علاوہ قصور کہیں پہ ہمارا(عوام کا) بھی ہے،کیوںکہ ہم خاموش تماشائی بنے اس لیے چُپ سادھے رہتے ہیں کہ یہ ”صِرف اُس کے ساتھ ہی تو ہو رہا ہے“۔یہ خاموشی بھی تو اِن تخریبی عناصر کو حوصلہ دیتی ہے۔مَیں یہ واقعہ قارئین اور اربابِ اختیارکے عِلم میں اِس لیے بھی لاناچاہتا ہوں کہ اِن کے افسرانِ بالا کو اندازہ ہوجائے کہ اِن کی ”چَھتر چھائیہ“میں تھانے دار حضرات کیسے بے گناہوں اور مدعیوں کو زدوکوب کرتے ہیں اور کم اَز کم آئیندہ کے لیے ہی پولیس اور قبضہ مافیا عناصر کوبھی تنبیہ ہو جائے :۔
راقم کے گھر سے ملحقہ پلاٹ پر کچھ قبضہ مافیا(بظاہر شریف)افرادقابض ہونے کے خواہاں ہیں،عدالتِ عالیہ(دیوانی) میں اِس کیس کی شنوائی عرصہ تین سال سے ہو رہی ہے۔عدالتی کاروائی سے ہم لوگ مطمئن تھے،راقم کے اہلِ خانہ نے عدالتِ عالیہ کومکمل ثبوت Stayاورمتعلقہ کاغذات فراہم کیے،جس کے باعث عدالتی کاروائی کے دوران مخالفین کا
خارج ہو گیا،اوراُن پر توہینِ عدالت کی شِک بھی لگ گئی لیکن مخالفین قانونی پیچیدگیوںسے بچتے بچاتے بارہا پولیس کو فریق کی حیثیت سے شامل کرنے کی تگ ودو میں لگے رہے۔ چند ماہ قبل عدالت نے اِس معاملے کے حَل کے لیے کمیشن بھیجا۔جس نے دونوں فریقین کے دلائل اور موقع کا معائنہ کرکے حقائق پر مبنی رپورٹ عدالت میں پیش کی،جس سے عدالت کو اِس معاملے میں مزید کنفرمیشن ہوگئی۔مگر جب مخالفین کواِس تمام کاروائی سے مستقبل قریب میں اُن کے خلاف ایکشن ہوتا دکھائی دیا تو اِن قبضہ مافیاعناصر نے عدالت کا وقت ضایع کرنے اور دوسرے اوچھے ہتھکنڈے اختیارکیے۔یہ حضرات عدالت کی دی گئی تواریخ پرحاضر نہ ہوتے۔جس سے کیس نے مزید طول پکڑا۔دوسرا طریقہ جو اِن قبضہ مافیا اور ڈرگ مافیا نے اختیار کیا وہ راقم اور اہلِ خانہ پرغلط اور بے بنیاد الزامات لگا کر پولیس کے ذریعےہراساں کرنا شروع کردیا،تاکہ اِس کیس کا فیصلہ عدالت سے باہر پولیس کے روایتی” مُک مُکاؤکے ذریعے ممکن ہوسکے،اِس سلسلے میں مخالفین نے اپنے گھر کی دیوار مرمّت کرنے کے بہانے راقم کے پلاٹ کو عارضی طور پر لینے کے لیے ہمارے خلاف ایک جھوٹی اور بے بنیادالزمات پر مبنی درخواست پولیس کو دی۔جَب اِس سے بھی چارہ کارگر نہ ہوا تو اِن حضرات نے پولیس اسٹیشن میں ڈرانے دھمکانے کا انداز اختیار کیااور راقم سے بھی نازیبااوربَداخلاق زبان کااستعمال کیا۔اِس موقع پر راقم کے والدگرامی (جو دِل کے مریض ہیں)نے حق بجانب ہونے کے باعث پولیس کو تنبیہ کی کہ عدالت میں زیرِسماعت کیس کو پولیس سٹیشن میں حَل نہیں کیا جاسکتا،اِس تلخ کلامی کے بعدپولیس کے”محترم سَب انسپکٹر“نے اُن قبضہ اورڈرگ مافیاافرادکے روبرومیرے والد گرامی اور مجھ کوحوالات کی ہوا کھانے کی دعوت دی،یہ سَب کچھ میری موجودگی میں وقوع پزیر ہوا،جس پر میری مداخلت کرنے اورگالیاں سننے کی سَکت جواب دے گئی،اِس تمام واقعے میں مخالفین کی ٹولی نازیبا اور بے ہودہ گالیوں کا استعمال نہایت نپے تلے انداز سے کرنے میں پولیس کی برابر کی شریک رہی۔اسی اثناءمیں میرے والد گرامی کو اینجائنا کی دَرد ہونے لگی،بالآخر معاملہ عارضی طور پر دَب گیااور ایک بار پھر اُن عناصر کو دندناتے پھرنے کا استحقاق حاصل ہوگیا۔
اِس تمام واقعے نے پولیس کے چند افراد کی غنڈہ اور قبضہ مافیا عناصر کو پشت پناہی کرنے کی کئی گرہیں کھول دیں،ایک طرف پولیس کہتی ہے کہ عدالت میں زیرِ سماعت کیس کے کسی بھی معاملے میں پولیس بولنے سے قاصر ہے‘جب تک عدالت حکم نہ دے۔جب کہ دوسری طرف پولیس اِن عناصر کے ساتھ ایک فریق کی حیثیت اختیار کرکے ایک طرح سے عدالت کامذاق اُڑانے کی مرتکب ہو تی ہے۔
اِس واقعے کے بعد راقم کو عِلم ہوا کہ شریف اور حق دار انسان پولیس سٹیشن جانے سے کیوں کتراتا ہے، کیوں کہ اُسے علم ہوتا ہے کہ جتنا سرمایہ یا جائداد اُس کے پاس موجودہے کہیں اُس سے بھی ہاتھ دھونے پڑ جائیں۔
٭   قارئین اور اربابِ اختیار کو اِس تمام واقعے سے آگاہ کرنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ جب ایک کیس عدالت میں فیصلے کے قریب ہے تو عدالت سے باہر زدو کوب یاہراساں کرکے معاملات حَل کرنے کا کیا جواز ہے؟
٭   پولیس کی کارکردگی کوبڑھانااور رشوت ستانی کو ختم کرنے کے لیے وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے پولیس کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ اِس لیے کیاتھا کہ یہ حق دارسے اُس کا حق چھینے اور غنڈوں ،قبضہ مافیوںکو حوصلہ دیں!!!
راقم کی چیف جسٹس آف سپریم کورٹ ،چیف جسٹس آف ہائی کورٹ،وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور پولیس کے کسی ایمان دار اور فرض شناس افسر سے اپیل ہے کہ خدارا اِس معاملے میں راقم اور اہلِ خانہ کی مدد نہ سہی تو کم از کم عدالتی معاملات میں مداخلت سے پولیس اوراُن قبضہ مافیا کو روکا جائے اور تحفظ فراہم کیا جائے۔۔

تحریر: رحمان محمود خان
Feedback:peghaamnews@gmail.com

http://peghaam.blogspot.com/
http://article.urduhome.net/2011/08/01/rehman/ 
http://www.urdusky.com
http://hamariweb.com/articles/article.aspx?id=15095
http://zeeshannews.com/columns/rehman/8.htm
In India:  http://www.khwajaekramonline.com/blog/?p=1834


....٭٭٭....

جمعرات، 14 جولائی، 2011

پاکستان میں گرینڈ الائینس

0 comments

پاکستان میں گرینڈ الائینس کا تاریخی تناظر
تحریر:رحمان محمود خان
توجہ طلب بات ہے!
پاکستان کے تمام ادارے،انتظامیہ اور سیاسی جماعتیں ایک افراتفری کے عالم میں ہیں،ہرادارے میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی مسابقت چل رہی ہے۔ریاستی اداروں سمیت پرائیویٹ سیکٹر اور ملٹی نیشنل کمپنیز بیان بازی اور ذاتی فنڈ ریزنگ کے چکر میں ہیں۔جس کی بدولت اِالاّماشاءاللہ ہماری سیاسی جماعتیں اپنی دکان داری چمکانے میں تَن،مَن،دَھن ایک کیے ہوئے ہیں،جس کاواضح حاصل یہ ہے کہ ان تمام چیزوں میں بھلائی اور اچھائی صِرف ذاتی ہے اجتماعی نہیں اور جس ملک کے ریاستی ادارے عوام کے اجتماعی مفادکو مدِّنظر رکھنامتروک کردیں اورصرف اپنے بنک بیلنس کوترجیح دینااوّلین نصب العین سمجھ لیں‘تواُس ملک کا حال”پاکستان“جیسا ہی ہوگا،جہاں اصلاحِ احوال نام کی چیز ناپید ہوچکی ہے۔اداروں کی اصلاح اس صورت میں ہی ممکن ہے کہ گُڈگورننس کے نام لیواوں کو کم از کم اس بات کا ادراک ہو جائے کہ عوام کو ریلیف دینے سے ہی یہ سب ممکن ہے،لیکن افسوس یہاں توگُڈ گورننس ہے ہی ان کے ذاتی اور پارٹی مفاد کے لیے۔۔۔۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اکثر یہ ہوتا آیا ہے کہ جب ایک سیاسی جماعت کے ہاتھ کچھ نہ آیا یا بہت تھوڑا آیاتواس جماعت کے سرکردہ رکن نے باقی تھکی ہاری جماعتوں کے سربراہان کو اکٹھاکیا،چند مفادی باتوں کو عوام کے مفادکے روپ میں ڈھال کر ایک اتّحاد بنا لیا اور اس کا نام ”گرینڈ الائینس“ رکھ دیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے دھڑے حکومت کو توڑتے توڑتے خود بھی ا،ب،ج جیسے دھڑوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں،اور آخر میں حروفِ تہجّی کے علاوہ کچھ نہیں بچتا۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسے کئی گرینڈ الائینس اپنی موت آپ مرتے رہے ہیں۔
اَب ایک نیاگرینڈالائینس بننے کی طرف رواں دواں ہے جس کی بنیادبدھ6جولائی کومسلم لیگ (ن)اور ایم کیو ایم نے رکھی،اس سے ملکی سیاست میں ایک نئی ہلچل اور سیاسی حلقوں میں کشیدگی کے بادل اُمڈ آئے ہیں اور چند روز قبل یہ بادل سندھ کے سینئر صوبائی وزیر ذوالفقارمرزاکی صورت میں گرج برس گئے ہیں۔اب اس گرینڈالائینس کے بارے پاکستان پیپلز پارٹی درست بتا سکتی ہے کہ آیا یہ گرینڈالائینس ہوگا یا گرائینڈ الائینس۔۔۔۔
راقم کو سابقہ اخبارات کی دھول اُڑانے پر معلوم ہوا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسے گرینڈالائینس ہوتے آئے ہیں۔قصّہ یوں ہے:
(1)
1970ع کے بعدجب ملک میں سیاسی استحکام آنے لگا، ترقی کا پہیہ چلنے لگا،معاشرے میں برداشت اور جمہوری روایات قدم جمانے ہی لگی تھیں کہ 1977 ع کے انتخابی نتائج کو جواز بنا کر پاکستان عوامی اتحاد (پی این اے) کی شکل میں ایک گرینڈ الائنس وجود میں آیا‘جمہوریت کی بساط لپیٹنے کے لیے ملک کی نو جماعتیں اکٹھی ہوئیں،اُن دنوںحکومت اور پاکستان عوامی اتحاد (پی این اے) کی محاذ آرائی عروج پر تھی۔اس الائینس میں مولانا مفتی محمود اور مولانا مودودی بھی شامل رہے۔ذوالفقار علی بھٹوکے پاکستان عوامی اتحاد (پی این اے)کے مذاکرات کامیاب ہو نے ہی والے تھے،حکومت اور گرینڈ الائینس کے مابین معاہدے پر دستخط ہونے کے قریب تھے کہ4جولائی 1977ع کی شب جنرل ضیاءالحق نے اقتدار پر قبضہ کر لیااور گرینڈ الائینس (اتحاد) میں شامل تمام جماعتیں مارشل لاءکی نوتعمیر کردہ حکومت میں شراکت دار بن گئیں۔
(2)
آمرجنرل ضیاءالحق کے خلاف تحریک بحالی جمہوریت، ایم آر ڈی، کے نام سے ایک اور گرینڈ الائینس وجود میں آیا۔ اس الائینس کی خوبصورتی یہ تھی کہ اس میں پاکستان عوامی اتحاد (پی این اے)کی تحریک چلانے والے نواب زادہ نصر اللہ،ائیر مارشل اصغر خان، عبدالولی خان اور رسول بخش نمایاں تھے، تا ہم اس اتحاد کی مرکزی نمایندگی کم عمربے نظیر بھٹوکے حصّے آئی،دلچسپ امر ہے کہ وہی لوگ جو ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف تھے،آج اس کی بیٹی کی تقلید میں اکھٹے تھے۔لیکن اس الائینس نے پیپلز پارٹی کو بہت جانی نقصان پہنچایا۔پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان نیشنل پارٹی(پی این اے) کے کارکنان کو قیادت سمیت زیادتیوں کا نشانہ بنایا گیا۔
(3)
1998ع بنی نوع ِانسانی ع کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف دیگر مخالفین نے ایک اور موثر گرینڈالائینس بنایا۔جس میں مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم، ائیر مارشل اصغر خان اور محمد ان جونیجو شامل تھے۔ انتخابات میں اِس گرینڈ الائینس کو عبرت ناک شکست کی ہزیمت اٹھانا پڑی اور اس کے محض دو امیدوار جنرل (ر) انصاری اور ڈاکٹر شیر افگن خان نیازی کامیاب ہوسکے۔
(4)
1998ع میں پیپلزپارٹی کے مخالفین کے لیے بے نظیر بھٹو کا وزیراعظم بننا ناقابل برداشت تھا، جس کے نتیجے میں محاذ آرائی اور سیاسی کشیدگی کی فضا قائم کی گئی۔ایک بار پھرسازشوںکاجال انتہائی رازداری سے پاکستان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتمادکی صورت میں سامنے آیا،اِس بارغلام مصطفےٰ جتوئی کی قیادت میں گرینڈ الائنس وجود میں آیالیکن تحریک عدم اعتمادناکام ہوئی مگر کچھ عرصہ بعداس وقت کے صَدرغلام اسحٰق خان مرحوم نے بے نظیر حکومت کو چلتا کیا۔
(5)
پاکستان کی سیاست میں ہارس ٹریڈنگ کا عنصر اِس دور سے بخوبی ملتا ہے۔1990 ع کی دہائی میں جو رسّا کشی پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی میں ہوئی،وہ کسی بھی شخص سے ڈھکی چھپی نہیں۔1990 ع کے انتخابات میں بے نظیر بھٹو اور پاکستان پیپلزپارٹی کو برسرِاقتدار آنے سے روکنے کے لیے ایک اور گرینڈ الائینس تشکیل دیا گیا جس کا نام اسلامی جمہوری اتِّحاد(آئی جے آئی)رکھا گیا،جس کے روحِ رواں آئی ایس آئی کے جنرل ریٹائرڈ حمید گُل تھے۔اسی اثنا میں محترمہ بے نظیر بھٹو، نواب زادہ نصر اللہ مرحوم، ائیر مارشل اصغر خان، ڈاکٹر طاہر القادری نے مل کر پاکستان ڈیمو کریٹک الائنس (پی ڈی اے) کے نام سے گرینڈ الائینس بناڈالا۔
(6)
1990ع کے انتخابات کے نتیجے میں نواز شریف حکومت کے خلاف ایک اور سیاسی اتحاد قائم کیا گیا،جس میں مرحوم نواب زادہ نصر اللہ خان، بے نظیر بھٹو ، غلام مصطفےٰ جتوئی، مولانا کوثر نیازی بھی شامل تھے۔
سیاسی شورشیں پیدا ہوتی رہیں ،گرینڈالائینس بنتے،ٹوٹتے اور بکھرتے رہے،اورایسے خود ساختہ اتِّحاداپنی موت آپ ختم ہوتے رہے۔
(7)
محترمہ بے نظیربھٹو اور نواز شریف کے اَدوارکی آنکھ مچولی کے بعد ایک اور آمر(پرویز مشَّرف) کا دور آیا جس میں اس وقت کی اپوزیشن نے مرحوم نواب زادہ نصراللہ خان کی سرپرستی میں ایک اور گرینڈ الائینس”اے آر ڈی“کے نام سے بنایا۔جس میں ملک گیر تحریک چلائی گئی اور بالاخر”باری باری“کی سیاست رنگ لائی،پرویز مشَّرف نے محض اپنی باری پوری کرکے اقتدار کے مزے لوٹنے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کو حکومت سونپ کر پردیس کی راہ لی۔
(8)
2008ع کے انتخابات کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی،پاکستان مسلم لیگ(ن) اورمہاجر قومی موومنٹ(ایم کیو ایم)اور دیگر جماعتوں کے درمیان ”کچھ دو،کچھ لو“کے مصداق مفاہمتی ڈیل طے پائی۔
لیکن اَب کی بار2011ع میں پاکستان پیپلز پارٹی،پاکستان مسلم لیگ(ق)کے مابین مفاہمتی اور اشتراکی سلسلے کا آغاز ہو اہے۔جب کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) اورمہاجر قومی موومنٹ(ایم کیو ایم)کے مابین ایک بڑے سیاسی اتِّحادکاآغاز ہواہے۔
جس کا نتیجہ تاریخ دان کورے کاغذ پر ثبت کرنے کے لیے بے چین ہیں۔اِس بارگرینڈالائینس میں شامل جماعتوںمیں پاکستان مسلم لیگ(ن) اورمہاجر قومی موومنٹ(ایم کیو ایم)،جماعتِ اسلامی،جمیعت علمائِ اِسلام،سنّی اتِّحاد کونسل،تحریکِ انصاف،بلوچستان کی قوم پرست جماعتیں اور تحریک صوبہ ہزارہ شامل ہیں۔
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ جو جماعت بارہا یہ کہتی رہی کہ آمر کی گود میں بیٹھنے والوں سے دوستی نہیں کی جائے گی،آج وہی جماعت عوام کو بے وقوف بناتے ہوئے اپنے الُّو سیدھے کرنے کے ساتھ ساتھ آئیندہ انتخابات کے لیے راہ ہموار کرہی ہیں۔اَب دیکھنا یہ ہے کہ یہ گرینڈ الائینس محض اپوزیشن کی قسمتیں بدلتا ہے یا عوام کی۔۔۔۔اگر اِس الائینس سے عوام کو ریلیف ملتا ہے،تو یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کاایک عظیم کارنامہ ہوگالیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔۔۔!!!!

تحریر: رحمان محمود خان
Feedback:peghaamnews@gmail.com
More Links:

....٭٭٭....

پیر، 25 اپریل، 2011

کِردار ہمیشہ زندہ رہتے ہیں

1 comments


کِردارمعین اختر۔۔۔۔فیچر
کِردار ہمیشہ زندہ رہتے ہیں
تحریر:رحمان محمود خان
جب روح قفسِ نفسی سے پرواز کرکے خالقِ حقیقی سے وصال پاتی ہے تو مٹی کا یہ کھلونا (جسم)خاک نشین ہو کر قدرت کے پردوں میں غائب ہو جاتاہے،جسم مَر جاتا ہے اور ارشادِباری تعالیٰ کے مطابق ہرنفس موت کا ذائقہ چکھتا ہے لیکن کردارہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ہر اچھے انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ زندگی کی سٹیج پر کوئی اہم کردار اور عمدہ کرِدار ادا کرے اور اپنے فَن کو دوسروں تک پہنچائے۔کچھ ایسے انسان بھی قدرت نے اس روئے ارض پر متعارف کروائے جن میں فطرتاًپوشیدہ فَن کار ہوتا ہے اور ایسے انسان جب عروج کی منازل طے کرتے ہیں تو عروج کو بھی ان پر فخر ہوتا ہے اور ایسے کِردار جب زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں تو کئی دوسری زندگیاں بھی غمزدہ اور افسردہ ہو جاتی ہیں،ایسا ہی اِک کِردار تمغہ حسنِ کارکردگی،ستارہ امتیاز اور بے شمار پرائڈ آف پرفارمنس کا حامِل فَن کار ”معین اختر “ کے نام سے جانا اور خوب پہچانا جاتا تھا،جس کا بہترین ایوارڈ ان کے جنازے
میں شریک افرادکی شکل میں تھا۔
کون ہے جو تقدیر سے پوچھے کہ کیوں مر جاتے ہیں ایسے لوگ
جن کی باتیں ، جن کی یادیں بن جاتی ہیں دِل کا روگ
معین اخترجس کا کیرئیر تقریباً 44برس کی فَن کارانہ صلاحیتوں کا حامل تھا،اس تمام عرصے میں ایک بار بھی خزاںکا موسم نہ دیکھا،ہر بار اور ہر کِردار میں اپنے مداحوں کا دِل جیتا۔بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔6ستمبر1966ع کاوہ دِن جس روز معین اختر نے اپنے فَن کا آغاز کیا،یہ وہ پروگرام تھا جو جنگِ ستمبر1965عکے ایک سال مکمل ہونے پر یومِ دفاع کے موقع پر پیش کیا گیا،جِس میں معین اختر نے میزبانی کرتے ہوئے ایسی یادگار پرفارمنس دی جو مرتے دَم تک اس فَن کار کا خاصہ رہی۔اِس پرفارمنس کے بعد اردو زبان جاننے والا ہرشخص معین اخترکے نام سے واقف ہوتا چلا گیا،فن کی دنیا میں مزاح سے لے کرطَنز اورپیروڈی سے لے کر گائیکی تک معین اخترکی اداکاری اور صَدا کاری کے جوہردہائیوں تک ناظرین وحاضرین کومحظوظ 
کرتے رہے،معین اختر کی زندگی کا کچھ احوال گوش گزار ہے۔۔۔
معین اختر 24دسمبر 1950ع کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔پاکستان ٹیلی ویژن کی تاریخ معین اخترکے بغیرنامکمل ہے،پاکستان میں ڈرامہ، اسٹیج اور مزاحیہ اداکاری کے بہت سے نئے پہلومعین اخترکی فَن کاری میں نمایاں ہوئے،بالخصوص انورمقصود اور بشریٰ انصاری کے ساتھ اشتراک میں کئی یادگارمثالی پروگرامز اورڈرامے کیے۔ فَن کاروں کی نئی نسل کے لیے معین اخترہمیشہ مشعلِ راہ ثابت ہوئے۔ معین اختربے مثال صلاحیتوں کے مالک تھے،انہیں انگریزی، بنگالی، سندھی، پنجابی، میمنی، پشتو، گجراتی سمیت متعدد زبانوں پرعبور حاصل تھا۔اُردوفَن کی دنیا میں معین اخترایک اَن مِٹ نام ہے۔معین اختر کو ٹی وی پر امیر امام نے اپنی سیریل "انتظار فرمایئے" کے ذریعہ متعارف کرایا جس میں ان کے کردار ”راجہ پہلوان“ کو بے پناہ شہرت ملی۔ معین اخترنے ”روزی کانسوانی کرداریادگاربنادیا،اس ڈرامے میں معین اختر نے دوشیزہ کاکردار بڑے کمال مہارت سے انجام دیا۔ڈرامہ سیریل سَچ مُچ میں ”سیٹھ منجور(منظور) دانہ والا“کا کِردار سراہا گیا۔اس کے علاوہ اسٹیج پر بے شمار ڈرامے کیے۔”بکرا قسطوں پر “اور ”بڈھا گھرپر ہے“ میں اپنے ساتھی اداکار عمر شریف کے ساتھ یادگار شوز کیے ۔اِس کے علاوہ متعدد شوز،اسٹوڈیوڈھائی، اسٹوڈیو پونے تین، اورلوز ٹاک جیسے شاندار مزاحیہ شوز بھی بہت پسند کےے گئے، ٹیلی ویژن سیریل روزی، مکان نمبر فورٹی سیون ،فیملی نائنٹی تھری،پائلٹ یعقوب،بھائی سموسہ کھائیے،ڈالرمین، لانگ پلے ”ہاف پلیٹ“، عید ٹرین، بندرروڈ سے کیماڑی، سَچ مُچ اورآنگن ٹیڑھا یادگار ڈرامے ہیں۔معین اختر نے انور مقصو د کے ساتھ مشہور مزاحیہ ٹاک شو ”لووز ٹاک “کی چارسو سے زائد اقساط میں مختلف گیٹ اَپ کیے۔اس پروگرام کو انور مقصو د نے ہی تحریر کیا جب کہ میزبان بھی انور مقصود ہی تھے۔معین اختر نے مختلف فَن کاروں کے ساتھ کام کیا مگر جو کیمسٹری اور ہم آہنگی اُن کی انور مقصو د اور بشریٰ انصاری کے ساتھ رہی وہ 
بےمثال ہے۔انورمقصود کی مزاحیہ تحریرکا خیال آتے ہی تصورمیں معین اخترکے مختلف بہروپ اُبھرتے ہیں ۔
معین اختر پاکستان کی شوبز کی وہ واحد شخصیت تھے جنھوںنے ایک ایسے شو کی میزبانی کے فرائض انجام دیے‘ جس میں بطور میزبان معین اختر نےعُمّان کے شاہ حسین اورگیمبیا کے وزیر اعظم داؤ ٰدی الجوزانے، صدرضیاالحق، وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو، جنرل یحیی خان اور غلام اسحاق خان جیسے سیاستدانوں کے انٹرویوز کیے۔
معین اختر ملک میں ہی نہیں بَل کہ بیرون ملک بھی اپنے فَن کا مظاہرہ کیا۔معین اختر کو”نقّالی“ میں خاص مہارت حاصل تھی،مشہور اداکاروں ،سیاست دانوں کی بڑی مہارت سے نقل کیا کرتے۔ پاکستان کے نامور اداکار اور لیجنڈ محمد علی،وحید مراد ،مہدی حسن اور احمد رشدی کے علاوہ دیگر اداکاروں کی”نقّالی“ بڑے خوبصورت انداز میں کرتے۔
معین اختر نے گلوکاری میں بھی اپنے فن کا لوہا منوایا،ان کے گانوں کا ایک البم ”تیرا دل بھی یوں ہی تڑپے “بھی ریلیز ہوا جس میں انہوں نے اپنی آواز کا جادو جگایا۔معین اختر نے فلم ”تاج دار“ اور ”مسٹرکے ٹو“میں اپنے فَن کا مظاہرہ کیا۔
معین اخترکو ان خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ”پرائڈ آف پرفارمنس “ اور”ستارہ امتیاز “سے نوازا گیا۔اس کے علاوہ دیگر ایوارڈز جنِ میں نگار ایوارڈ،کریٹک ایوارڈ،گرایجویٹ ایوارڈ،مصّوِر ایوارڈ،عوامی ایوارڈ اور پاکستان ٹیلی ویژن کی جانب سے چھے ایوارڈز سے نوازا گیا۔
معین اختر طویل عرصے سے دل کے عارضہ کو اپنے سینے میں چھپائے ہوئے تھے ،کچھ برس قبل اُن کا بائی پاس آپریشن بھی ہوا۔گزشتہ دِنوںسینے میں شدید درد کی شکایت پر انھیں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیوویسکولر ڈیزیز لایا گیالیکن وہ جان بَر نہ ہوسکے۔
معین اختر کروڑوں دلوں کی دھڑکن تھے وہ جہاں جاتے میلہ لگ جاتا۔معین اختر نے 61سالہ زندگی میں سے 45برس اپنے فن کی خدمت کرتے گزارے،شوبز کے تمام شعبوں ڈرامہ، اسٹیج ، فلم،گلوکاری اورکمپیئرنگ میں اپنا لوہا منوایا۔مزاح کی صنف کو سنجیدگی کا اسلوب بخشا، پیروڈی کرنے میں ان کووہ ملکہ حاصل تھا، جس کی کوئی فنکار تمنا ہی کرسکتا تھا۔ سنجیدہ اداکاری ہویاکامیڈی،انہوں نے جو کردار کیااس پر اپنی چھاپ لگاچھوڑی۔اُن کا نام ہی ڈراموں اور اسٹیج شوز کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتاتھا۔ وہ اپنی ذات میں ایک دَرس گاہ تھے، اِن جیسی شخصیات کے لیےشاعر نے کہا ہے کہ
ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
 معین اختر کی بنیادی پہچان اور وجہ مقبولیت بھی ان کی منفرد کمپیئرنگ تھی۔ وہ بہت شائستہ انداز میں شگفتہ گفتگو کرتے تھے اور برجستگی سے بات کرتے تھے۔ ٹی وی پروڈیوسر قاسم جلالی کی سیریل ”یس سر نو سر“ سے بھی ان کی شہرت میں اضافہ ہوا۔ محسن علی اور سائرہ کاظمی کے ڈراموں اور سیریلز میں بھی معین اختر نے مختلف اور متاثرکن کردار ادا کیے۔ تاجدار عادل کے پروگرام” معین اخترشو“کی کمپیئرنگ بھی کی۔ تھیٹر میں بھی وہ اپنی بھر پور پرفارمنس سے شائقین سے داد وصول کرتے تھے۔اُن کا کامیاب ترین اسٹیج ڈرامہ"بچاؤ معین اختر" تھا ،اِس کے علاوہ بھی سید فرقان حیدر کے متعدد کھیل کیے۔ معین اختر نے اپنے 45سالہ فنی کیریئر میں بے شمارسٹیج ڈراموں کے علاوہ ٹی وی سیریل، ٹی وی شوز میں کام کیا۔ انہوں نے ریڈیو، اسٹیج، ٹی وی اور فلم سمیت تمام شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
اداکاری کے ساتھ ساتھ انہوں نے ہدایتکار اور پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ انھوں نے متعدد ٹی وی ڈراموں کے علاوہ فلم کی ڈائریکشن بھی کی۔ ملک اور بیرون ملک ہونے والی تقریبات کے منتظمین کی خواہش پر معین اختر کمپیئرنگ کے لیےوہاں جاتے تھے۔ وہ لوگوں کے دلوں پر راج کرنے کا فَن جانتے تھے۔ برصغیر کے لیجنڈ اداکار دلیپ کمار کی خواہش پر معین اختر کو اُن کی سالگرہ پر میزبانی کے لیے خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔عوام کے ساتھ ساتھ حکمرانوں میں یحییٰ خان، غلام اسحاق خان، ذوالفقار علی بھٹو، پرویز مشرف، نوازشریف، فنکاروں میں دلیپ کمار، راج ببر، انیل کپور، سلمیٰ آغا، لتا منگیشکر، دیو آنند اور دھرمیندر سمیت بڑی تعداد میں ملکی و غیر ملکی فنکار ان کے مداح تھے۔اُن کے انتقال پر ان کےشوبز کے کئی ساتھیوں نے دِلی افسوس کا اظہار کیا۔اداکارقوی خان نےانھیں لیجنڈ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اُن کا خلاءشاید کبھی پُرنہ ہوسکے۔
معین اخترکی ناگہانی موت پر صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے شدید رنج و غم کا اظہار کیا ہے جب کہ پاکستانی فلم انڈسٹری ، ٹی وی اور سٹیج سوگ میں ڈوب گئے۔ مزاحیہ اداکار عمر شریف نے معین اختر کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ معین اختر جیسا اداکار دوبارہ پیدا نہیں ہوگا، ان کی وفات ناقابل برداشت خبر ہے، یقین نہیں آتا کہ وہ دنیا سے چل بسے۔ انھوں نے کہا کہ بے شمارفَن کاروں نے معین اختر کے سائے میں ترقی حاصل کی ، کامیڈی میں جتنی جدت معین اختر نے پیدا کی اتنی کوئی نہیں کرسکا۔
وزیراعظم نے اپنے تعزیتی پیغام میں مرحوم کے اہل خانہ سے ہمدردی اورتعزیت کااظہارکرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت کے لیےدعا کی۔ انہوں نے کہاکہ معین اخترہمارے ملک کے ہمہ وقت ٹی وی آرٹسٹ تھے جنہوں نے اپنی اداکاری کے ذریعے جذبہ حب الوطنی کواجاگرکیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ معین اخترکے انتقال سے ملک ایک اعلیٰ پائے کے اداکارسے محروم ہوگیااوراُن کے انتقال سے پیداہونیوالاخلاءتادیر پرنہیں ہوسکے گا۔ ملک وقوم کے لیےاُن کی قابل قدرخدمات کو ہمیشہ یادرکھاجائیگا۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمدشہبازشریف نے تعزیتی بیان میں کہاکہ معین اختراپنی ذات میں انجمن تھے۔ انھوںنے کہا کہ معین اختربے پناہ صلاحیتوں کے مالک تھے۔ وہ اداکاری‘ کمپیئرنگ اور کامیڈی کے فَن میں یکتاتھے۔انھوں نے کہا کہ معین اخترکے انتقال سے وطن عزیز ایک مایہ نازفَن کارسے محروم ہوگیاہے۔متحدہ قومی موومنٹ کے قائدالطاف حسین نے معین اخترکے انتقال پردلی صدمہ اورافسوس کااظہار کیا، ایک بیان میں الطاف حسین نے کہا کہ معین اختر ریڈیو‘ ٹی وی‘ فلم اوراسٹیج کی دنیاکابہت بڑانام تھے۔اُن کاانتقال نہ صرف پوری پاکستانی قومبَل کہ پوری دنیا میں فن کے مداحوں کے لیے ایک بہت بڑاسانحہ ہے۔معین اخترجیسے فَن کارتاریخ میں روزروزپیدانہیں ہوتے۔ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے معین اختر کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ گورنر نے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ معین اختر ایک نامور فَن کار تھے۔فَن کے شعبے خاص طور پر کامیڈی میں ان کے کردار کو بھلایا نہیں جاسکتا۔گورنر نے مرحوم کی مغفرت اور لواحقین کے لیے َصبرِ جمیل کی دعا کی۔ اداکاروں، سیاستدانوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اُن کے انتقال پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔
معین اختر کے انتقال کی خبر شوبز میں بھی جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ علمی، سیاسی، ادبی حلقوں میں صدمہ کا اظہار کیا گیا۔فَن کار برادری اُن کے انتقال کی خبر سے سکتے میں آگئی۔
معین اختر ایک بہت نفیس اور ہمدرد انسان تھے۔ اُن کے ساتھ اداکاری کرنا ہر اداکار کی ہمیشہ خواہش رہی۔ یہ ایک ناقابلِ پرداشت صدمہ ہے ،ساری زندگی سب کو خوشیاں دینے اور ہنسانے والا رلا کر چلا گیا، وہ اپنے طرز کا بہت باصلاحیت فَن کار تھا۔ قاسم جلالی ، حیدر امام رضوی،اداکارہ بشریٰ انصاری،اداکار شہزاد رضا، محمد سجاد حیدر، گلوکار ارشد محمود،میوزک ڈائریکٹر محبوب اشرف اور آرگنائزر اختر سلطان، گلوکار سلیم شہزاد، سینئر صوبائی وزیر پیر مظہرالحق، صوبائی وزیر کھیل ڈاکٹر محمد علی شاہ، اصلاح الدین، سمیع اللہ، حنیف خان، حسن سردار، ایڈمنسٹریٹر صدر ٹاؤن مختار حسین، پاکستان فلم اینڈ ٹی وی جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر اطہر جاوید صوفی، سیکریٹری عبدالوسیع قریشی اور دیگر عہدے داران نے بھی معین اختر کے انتقال پر شدید د کھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ ممبر سندھ کونسل پی پی پی سہیل سمیع دھلوی، میر ہزارخان بجارانی اور دیگر نے بھی معین اختر کیلئے دکھ کااظہار کیا۔ انجمن ترقی اردو پاکستان کے نائب معتمد اور دائرہ ادب و ثقافت کے چیئرمین پروفیسر اظفر رضوی، پاکستان آرٹس کونسل کے اعزازی سیکریٹری پروفیسر اعجاز احمد فاروقی، فلمساز و ہدایتکار جاوید شیخ،سید سلطان احمد، ایم نسیم، محمد حسیب خان، حاجی غلام محمد خان،عالمگیر شیخ، گل فراز، احمد خان، امین یوسف، سابق ایم پی اے عبدالقدوس اور دیگر نے بھی ان انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
معین اختر دنیا بھر کے اردو زبان سمجھنے والے افراد کو غمزدہ کر گئے ہیں ان کے قریبی ساتھی اور معروف اداکار بہروز سبزواری کا کہنا تھا کہ اُن کے خاندان والوں کے لیے تو یہ بہت بڑا دکھ ہے اور یہ ہم سب ساتھیوں کے لیے بھی یہ بہت بڑا دکھ اور المیہ ہے۔ ہم نے بڑا وقت ساتھ گزارا ہے معین اختر بہت خاص شخصیت کے مالک تھے ، دعوتوں میں بہت کم جایا کرتے تھے ان کی اپنی دنیا اپنے کمرے اور کام کی حد تک تھی، وہ ضرورت مند افراد کی خصوصی اعانت کیا کرتے تھے ، بہت سے ساتھی فنکار اس بات کی تائید کریں گے۔
معین اختر کے انتقال پر بولی ووڈ کے معروف مزاحیہ اداکار جانی لیور کا کہنا تھا کہ تمام ہندوستانی فنکاروں کو اس خبر سے صدمہ پہنچا ہے سب کا خیال ہے کہ معین اختر بہت بڑے فَن کار تھے اور ایسے فَن کار بہت کم پیدا ہوتے ہیں یہ برسوں میں پیدا ہونے والے آرٹسٹ تھے یہ میرے لیےفخر کی بات ہے کہ میں معین اختر کو جانتا ہوں اور اپنے کیریئر کا آغاز ان سے متاثر ہو کر ہی کیا ، میرے لیے وہ بہت بڑے شخص ہیں خدا ان کو جنت نصیب کرے ان کا فَنکی دنیا میں بہت بڑا حصّہ ہے۔
معین اختر کے فنّی کیریئر کا مختصر جائزہ
: ٹیلیویژن سیریلز
روزی،ڈالر مین،مکان نمبر 47،ہاف پلیٹ،فیملی93،عید ٹرین،بندر روڈ سے کیماڑی،سَچ مُچ،آنگن ٹیڑھا
ٹیلیویژن شوز:
شوشا،شو ٹائم،سٹوڈیو ڈھائی،سٹوڈیو پونے تین،لوز ٹاک،معین اختر شو
گانے اور البم:
 تیرا دِل بھی یوں ہی تڑپے (البم:تیرا دِل بھی یوں ہی تڑپے)
چھوڑ کے جانے والے    (البم:تیرا دِل بھی یوں ہی تڑپے)
چوٹ جِگر پہ کھائی ہے    (البم:تیرا دِل بھی یوں ہی تڑپے)
رو رو کے دے رہا ہے    (البم:تیرا دِل بھی یوں ہی تڑپے)
دَرد ہی صِرف دِل کو ملا   (البم:تیرا دِل بھی یوں ہی تڑپے)
دِل رو رہا ہے         (البم:تیرا دِل بھی یوں ہی تڑپے)
ہوتے ہیں بے وَفا      (البم:تیرا دِل بھی یوں ہی تڑپے)
معین اختریقینا ایک بڑے اداکار اور صداکار تھے لیکن اس سے کہیں زیادہ وہ ایک اچھے انسان تھے۔ وہ جس شعبے سے وابستہ تھے وہاں انسانی خوبیاں برقرار رکھنا ایک مشکل کام ہے لیکن اپنی خوبیوں کے حوالے سے وہ اپنی زندگی میں بھی نیک نام تھے اور مرنے کے بعد بھی ہر زبان پر ان کا چرچا بھلائی کے ساتھ ہے۔
معین اختر کا جنازہ جنید جمشید پڑھتے ہویے
یہ ایک مسلمان کے لیے جنتی ہونے کی علامت ہے۔ بہت سے لوگ اس بات کے گواہ ہیں کہ وہ بڑی خاموشی کے ساتھ ضرور ت مندوں کی مدد کرتے تھے‘ پیسے سے بھی اور ذاتی تعلقات کے حوالے سے بھی۔ ان کے بارے میں عموماً یہ کہا جاتا تھا کہ وہ ایک مزاحیہ اداکار ہیں لیکن وہ ایک لیجنڈ اور منفرد اداکار تھے۔ انھوں نے تھیٹر‘ فلم‘ ٹی وی ہر جگہ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا لیکن پھکڑپن اور ابتذال سے دور رہے ورنہ کامیڈین عموماً اِس عیب میں مبتلا ہیں۔معین اختر غمگین اور افسردہ لوگوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹیں بکھیرتے رہے۔ اللہ ان کے نیک اعمال کو قبول کرے اوران کی خطاؤں سے درگزر فرمائے۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پر روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

تحریر: رحمان محمود خان
....٭٭٭....

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *